سما میں درویشوں کا روحانی سفر
درویشوں کا روایتی رقص، جسے سما کہا جاتا ہے، محض گھومنے پھرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک جسمانی دعا ہے جسے 13ویں صدی میں صوفی بزرگ جلال الدین رومی نے متعارف کرایا تھا۔ اس کے مرکز میں تکرار والی حرکت کے ذریعے اپنے انا پر قابو پانے اور خدائی ذات کے ساتھ روحانی اتحاد کا تجربہ کرنے کی کوشش شامل ہے۔ جدید شو ڈانس کے برعکس، اس کا مقصد جمالیات یا تماشائیوں کی تفریح نہیں ہے۔ صوفی رقص کی رسومات میں ہر حرکت ایک گہرا علامتی مطلب رکھتی ہے۔ شروع میں سیاہ چوغے کو اتارنا دنیاوی بوجھ سے نجات کی علامت ہے، جبکہ اونچی ٹوپی انا کے قبر کے پتھر کی نمائندگی کرتی ہے۔
جسمانی انداز کی علامت
گھومتے وقت درویش اپنے بازوؤں کو وسیع پھیلاتے ہیں۔ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی آسمان کی طرف کھلی ہوتی ہے تاکہ خدائی فضل حاصل کیا جا سکے، جبکہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی زمین کی طرف ہوتی ہے تاکہ اس توانائی کو انسانیت تک پہنچایا جا سکے۔ رقص کرنے والا خود صرف ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ درست انداز گہری جسمانی ارتکاز کا متقاضی ہے، جو صرف برسوں کی روحانی اور جسمانی تیاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔




