آدھی رات سے مراد سب سے پہلے سال کی تبدیلی ہے
ایک دعوت نامے پر „آدھی رات کا والٹز (Mitternachtswalzer)“ لکھا ہے، لیکن رات کے بارہ بجتے ہی پہلے کچھ اور ہوتا ہے: پرانا سال ختم ہوتا ہے۔ الٹی گنتی سب کی توجہ اسی لمحے پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اس کے بعد مبارک باد کا تبادلہ ہوتا ہے، جام اٹھائے جاتے ہیں یا گھنٹیاں سنی جاتی ہیں۔ یہ سب نئے سال کے اس اعلان کردہ لمحے کا حصہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقص کا پروگرام لازماً تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
آسٹریا کی نئے سال کی روایات میں ویانا کے سینٹ اسٹیفن کیتھیڈرل کی بڑی گھنٹی، پومرین، کی آدھی رات کی گھنٹیاں خاص طور پر مشہور ہیں۔ ایک عام ترتیب میں سال کی تبدیلی اور گھنٹیوں کے بعد ڈینیوب والٹز (Donauwalzer) کی دھنیں بجتی ہیں۔ کوئی تقریب یہ ترتیب نشریات کے ذریعے اپنا سکتی ہے یا اپنی موسیقی کے ساتھ اسے ترتیب دے سکتی ہے۔ لیکن اس سے ہر جگہ کے لیے کوئی پابند وقت نامہ نہیں بنتا۔
دو صورتوں کا تصور کرو: ایک ہال میں مہمانوں کے جام ٹکرانے تک میزبان انتظار کرتا ہے، پھر والٹز کا اعلان کرتا ہے۔ ایک گھر کے بیٹھک میں نشریات جاری رہتی ہیں، جبکہ مہمان ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد دے رہے ہوتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اسے آدھی رات کا والٹز کہا جا سکتا ہے۔ یہ نام رقص کو سال کی تبدیلی سے جوڑتا ہے، کسی ایک سیکنڈ پر اٹھنے والے پہلے قدم سے نہیں۔ اسی لیے باہر دکھائی دینے والی آتش بازی سے بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اندر اس وقت پروگرام کا کون سا حصہ جاری ہے۔




